کرسمس کی حقیقت تاریخ کے آئینے میں

"کرسمس کی حقیقت تاریخ کے آئینے میں"

(ایک نو مسلم کے قلم سے)
  
انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب بھی وہ خوش ہوتا ہے تو اکثر و بیشتر حدود اللہ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمانی مذاہب نے ان تقریبات، عیدوں اور تہواروں کو پاکیزہ رکھنے کی ہمیشہ تاکید کی ہے۔
لیکن حضرت انسان کی خواہش نفس کی تکمیل کے آگے جہاں مقدس الہامی کتب اور صحائف نہ بچ سکے وہاں یہ بے چاری عیدیں اور تہوار کیا چیز ہیں؟

کرسمس(Christmas) دو الفاظ کرائسٹ (Christ) اور ماس (Mass) کا مرکب ہے۔ 

کرائسٹ (Christ)مسیح (علیہ السلام) کو کہتے ہیں اورماس (Mass) اجتماع ، اکھٹا ہونا یعنی مسیح کے لیے اکٹھا ہونا۔ 

مسیح علیہ السلام کی پیدائش 25 دسمبر کو ہوئی اور نا ہی آج سے 2018 سال قبل آپ سوچ رہے ہوں وہ کیسے! 
تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں 

 عام خیال ہے کہ سن عیسویA D جو کہ مخفف ہے Anno domini یعنی ہمارے خدا وند کا سال مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے مگر دیگر مسیحی کتب کی ورق گردانی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسیح علیہ السلام کی ولادت باسعادت 4 یا 6 ق م میں ہوئی ۔ قاموس الکتاب میں 4 ق م جبکہ مائیکل ہارٹ “The Hundred” میں چھ ق م تسلیم کرتا ہے۔مسیحی کلیساؤں میں مسیح علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کے اختلاف کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا اسے 25 دسمبر، مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا 6 جنوری اور ارمنی کلیسا 19جنوری کو مناتا ہے۔
۔ تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20مئی کو منایا جائے ۔
 25دسمبر روم میں بطور مسیحی مذہبی تہوار مقرر کیا گیا تاکہ اس وقت کے ایک غیر مسیحی تہوار، جشن زحل Saturnalia کو ( یہ رومیوں کا ایک بڑا تہوار تھا،اس روز رنگ رلیاں خوب منائی جاتی تھیں) جو سورج کے راس الجدی پرپہنچنے کے موقع پر ہوتا تھا، پسِ پشت ڈال کر اُس کی جگہ مسیح علیہ السلام کی سالگرہ منائی جائے (قاموس الکتاب ص147)

 چونکہ رومی قوم میں مسیحی تعلیمات کو جوں کا توں پہنچانا ایک مشکل بلکہ نا ممکن سی بات معلوم ہوتی تھی اسی لئے مسیحی مبلغین نے رومی مذہب وتہذیب کو Chrischanise کرنے کی بجائے Chrischanity کو Romanise کرنے کافارمولہ اپنایا جو کہ بہر حال کامیاب رہا یہی وجہ ہے کہ مسیحی مذہب میں ایک سے زیادہ عقائد و تہوار ایسے ہیں جن کا تاریخی حوالے سے جائزہ لیاجائے تو بات دو اور دو چار کی طرح واضح ہو جاتی ہے۔
 
(انجیل لوقا ، باب ۱ ، آیت نمبر 26 تا 31میں لِکھاہے)
 چھٹے مہینے میں جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرة تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا اورفرشتہ نے اسے کہا کہ اے مریم خوف نہ کر کیوں کہ خداوند کی طرف سے تجھ پر فضل ہوا ہے اور دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہوگا تو اسکا نام یسوع رکھنا۔

ہم جانتے ہیں کہ جب مریم علیہ السلام کو مذکورہ بالاپیغام دیا جا رہا تھا تب Gregorian Calendar کا تو تصور بھی نہیں تھا 525 عیسوی میں Dionysius Exiquus کے مشورے پر عیسوی کیلنڈر کی بنیاد رکھی گئی چنانچہ مذکورہ بالا آیت میں چھٹا مہینہ یقینا یہودی کیلنڈر کا ہی ذکر کیا گیا ہے اور یہودی کیلنڈر کا چھٹا مہینہ الول کا ہوتا ہے جو Gregorian Calendar کے مطابق اگست میں آتا ہے ۔ 
مریم علیہ السلام کو یہودی چھٹے مہینے میں الول میں بشارت ملتی ہے تو نو ماہ بعد مسیح علیہ السلام کی پیدائش یہودی مہینہ ایّارمیں ہونا بنتی ہے یعنی اپریل یا مئی جو کہ عین گرمی کے موسم میں ہوتا ہے جبکہ دسمبر کے مہینے کا مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے دور کا بھی تعلق نہ ہے۔

4صدیوں تک 25دسمبر تاریخ ولادت مسیح علیہ السلام نہیں سمجھی جاتی تھی ۔530ءمیں سیتھیا کا ڈایونیس اکسیگز نامی ایک راہب جو ایک منجم (Astrologer) بھی تھا، تاریخ ولادت مسیح علیہ السلام کی تحقیق اور تعین کے لیے مقرر ہوا۔ سو اُس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت 25 دسمبر مقرر کی کیونکہ مسیح علیہ السلام سے پانچ صدیاں قبل 25 دسمبر مقدس تاریخ سمجھی جاتی تھی ۔ بہت سے دیوتاؤں کا اس تاریخ پر یا اس سے ایک دو دن بعد پیدا ہونا تسلیم کیا جا چکا تھا، چنانچہ راہب نے آفتاب پرست اقوام میں عیسائیت کو مقبول بنانے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ ولادت 25دسمبر مقرر کر دی۔

قرآن مجید کی سورۃ مریم پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کس موسم میں پیدا ہوئے 

”پھر دردِ زہ اسے (مریم علیہ السلام کو )کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ وہ کہنے لگی: اے کاش! میں اس سے پہلے مر جاتی اور بھولی بسری ہوتی۔ پھر اس (فرشتے)نے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، یقینا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گا تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔“ (سورہ مریم 22 تا 25) 
اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ مسیح علیہ السلام کی جائے پیدائش ریاست یہودیہ کے شہر بیت اللحم میں ہوئی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے،  
بَیتُ ا للَحَم حَیثُ وُلِدَ عَیسیٰ ۔اور اس علاقے میں موسم گرما کے وسط یعنی جولائی، اگست میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کے ذریعے اللہ نے یہ امر واضح کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کھجوریں پکنے کے مہینےجولائی یا اگست کے کسی دن میں ہوئی - 

مسلمان اور کرسمس

اسلام کی روشنی میں ایسے موقع پر ایک مسلمان کو مسیحیوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟

دنیا میں بے شمار لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو محض نمود و نمائش کے لیے اپنی تاریخ پیدائش کچھ ایسے دنوں سے منسوب کر لیتے ہیں جو قومی یا عالمی سطح پر معروف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے یوم ولادت پر مبارک باد دینا بھی خلاف واقعہ ہے جبکہ کسی ایسی شخصیت اور دن کو ماننا اور اس کے بارے میں مبارک باد پیش کرنا کہ جن کے متعلق اول تو یہ بات واضح ہے کہ ماضی میں ان تاریخوں میں سورج دیوتا ، سیّارے (Jupiter, Satum)یا دیگر بتوں کی پیدائش کا جشن منایا جاتا تھا۔ دوم مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا دن تو درکنار سن پیدائش بھی معلوم نہیں۔ سوم یہ کہ عیسائیوں کا جس دن کے بارے میں عقیدہ یہ ہو کہ آج کے دن یعنی 25 دسمبر کو اللہ کا بیٹا پیدا ہوا تھا (معاذ اللہ )، ایک مسلمان کسی کو اس پر کیسے مبارک دے سکتا ہے ؟ یاد رکھیں یہ وہ بات ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ۔ 

”اور انہوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنالی ہے، بلاشبہ تم ایک بہت بھاری بات (گناہ) تک آپہنچے ہو۔ قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گِر پڑیں کہ انہوں نے رحمان کے لیے کسی بیٹے کا دعویٰ کیا۔“

لہٰذا مسیحی حضرات کو مبارک باد دینا یا اس ضمن میں کسی بھی تقریب میں شرکت کرنا اسلامی نظریے کے مطابق درست نہیں۔ 

اسلام قبول کرنے سے قبل میری زندگی میں ایک کرسمس ایسا بھی آیا جس کو میں نے نیکی کا کام سمجھ کے خوب دھوم دھام سے منایا جس میں 80فیصدمیرے ایسے دوستوں نے شرکت کی جو مسلمان تھے اور صرف شرکت ہی نہیں کی بلکہ ثواب سمجھ کر کرسمس پارٹی کے اخراجات میں میری معاونت بھی کی مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اب جبکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور گھر میں یا دیگر مقامات پر درس قرآن کی مجالس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں تو وہی لوگ جو رات 3بجے تک میرے ساتھ کرسمس مناتے تھے ، عذر تراشتے ہیں۔ 
 
فقہاءنے اس مسئلہ (غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت نہ کرنے اور مبارک باد نہ دینے ) پر اجماع نقل کیا ہے۔
امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے شام کے عیسائیوں کو باقاعدہ پابند فرمایا تھا کہ دارالاسلام میں وہ اپنے تہواروں کو کھلے عام نہیں منائیں گے؛ اور اسی پر سب صحابہؓ اور فقہا کا عمل رہا ہے، چنانچہ جس ناگوار چیز کو مسلمانوں کے سامنے آنے سے ہی روکا گیا ہو ، مسلمان کا وہیں پہنچ جانا اور شریک ہونا کیونکر جائز ہونے لگا؟ اس کے علاوہ کئی روایات سے حضرت عمر ؓ کا یہ حکم نامہ بھی منقول ہے:

 ”عجمیوں کے اسلوب اور لہجے مت سیکھو۔ اور مشرکین کے ہاں اُن کے گرجوں میں ان کی عید کے روز مت جاﺅ، کیونکہ ان پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔“ (اقتضاءالصراط المستقیم از شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ)

علاوہ ازیں کافروں کے تہوار میں شرکت اور مبارکباد کی ممانعت پر حنفیہ ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب متفق ہیں۔
فقہائے مالکیہ تو اس حد تک گئے ہیں کہ جو آدمی کفر کے تہوار پر ایک تربوز کاٹ دے وہ ایسا ہی ہے گویا اُس نے خنزیر ذبح کر دیا۔ 
(اقتضاءالصراط المستقیم ص ۴۵۳)

تعلیماتِ اسلام سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاءو رُسُل اس کائنات میں سب سے برگزیدہ تھے، لہٰذا وہ لوگ ہمیں ان انبیاءو رسل علیہ السلام سے محبت و عقیدت کی کیا تعلیم دیں گے جن کی اپنی کتابیں ان پر ایسے گندے اور گھناؤنے الزام لگاتی ہیں کہ پڑھنے والے کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں ۔ یہ مقدس معصوم عن الخطا لوگ تو قیامت تک پوری انسانیت اور زندگی کے لیے رول ماڈل ہیں۔ ایک شام مسیح علیہ السلام کے نام والا فلسفہ غلط اور ناقص ہے۔ ہر صبح و شام اللہ اور اس کے دین کے نام ہونی چاہیے ۔ اور ویسے بھی ہمیں اس طرح کی باطل و بوسیدہ تہزیب کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے جن کے منانے سے دنیا اور آخرت کی تباہی مقدر بن جاوے. 
 جبکہ اسلام کے نزدیک لفظ تہذیب کا معنی ہی سجانا ، آراستہ کرنا، حسین بناناہے ۔ ہمارے یہاں ہر وہ عمل جزو تہذیب ہے جو ہماری شخصیت کو حسین بنائے اور ہمارے کردار کو عظیم بنائے، نیز ہماری دنیا و آخرت کو سنوارے ۔یہ ہماری تہذیب ہے ۔ علم ، اخلاص، خدمت اور محبت ہماری تہذیب کے بنیادی اجزا ہیں۔ یہ ہے وہ تہذیب اور اسلام کی بے مثال تعلیم جو نہ صرف انبیاء علیہ السلام کی عصمت ، عزت اور مقام و مرتبہ کی حفاظت کاحکم دیتی ہے بلکہ ان کی اطاعت و اتباع اور ان سے ہر وقت محبت اور ہر لمحہ ان کی اطاعت کرنے کا درس دیتی ہے۔
اسلامی تہذیب وقتی طور پر جمود کا شکار ضرور ہے مگر یہ جمود اسلام کا مستقل مقدر نہیں ۔ اسلامی تہذیب کا مستقبل بھی اپنے ماضی کی طرح روشن ہے ۔

تم اک چراغ کی خیرات دے رہے ہو مجھے 
میں آفتاب سے پیچھا چھڑا کے آیا ہوں 

وماعلینا الاالبلاغ۔
عبدالوارث گِل

مکمل کتاب پڑھنے کے لئے لنک وزٹ کیجئے
Waris@huqooq.org


Comments

Popular posts from this blog

عشرہ_ذوالحجہ