ذوالقعدہ کا لفظی اور اصطلاحی مفہوم کیاہے اور زمانہ جاہلیت میں ماہ ذوالقعدہ میں کیا رسومات رائج تھیں۔۔ ؟
☄╔───────────╗☄
♦️ *بِسۡـــمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰـــنِ ٱلرَّحِـــیمِ* ♦️
*سـوال*
📝 ذوالقعدہ کا لفظی اور اصطلاحی مفہوم کیاہے اور زمانہ جاہلیت میں ماہ ذوالقعدہ میں کیا رسومات رائج تھیں۔۔ ؟
🔹▬▬▬▬▬🌹🌹▬▬▬▬▬🔹
جــواب *تحریری صورت میں*
ماہ ذیقعدہ اسلامی سال کا شوال کے بعد آنے والا گیارہواں قمری مہینہ ہے۔
ذیقعدہ کے نام کی لغوی تحقیق:
اس مہینے کو عربی میں " ذوالقعدہ " یا " ذی القعدہ " کہا جاتا ہے۔
ذوالقعدہ یہ دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔(1) ذو (2) القعدہ "ذو" کا معنی اردو میں "والے" کے آتے ہیں اور " قعدة" کے معنی بیٹھنے کے آتے ہیں۔
"ذیقعدہ" کو ذیقعدہ کہنے کی وجہ:
زمانہ جاہلیت میں اہلِ عرب اس مہینے میں جنگ و جدال کو حرام سمجھتے تھے اور اسلحہ رکھ دیتے تھے، کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا تھا، حتی کہ باپ، بیٹے کے قاتل کو بھی اس مہینہ میں کچھ نہیں کہا جاتا تھا، چونکہ وہ لوگ اس مہینے میں قتل و قتال سے الگ تھلک ہو کر بیٹھ جایا کرتے تھے، اس لئے اس مہینہ کا نام "ذو القعدہ" یعنی بیٹھنے والا مہینہ رکھا گیا۔(2)
فضائلِ ذیقعدہ:
1۔ ذیقعدہ چار عظمت والے مہینوں میں سے ہے:
ذیقعدہ کا مہینہ ان چار مہینوں میں سے ہے، جن کو اللہ تعالی نے "اشہُر حُرُم" یعنی حرمت والے مہینے قرار دیا ہے۔
سورة توبہ میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے۔ جو اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے، جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان (بارہ مہینوں) میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔(آسان ترجمۂ قرآن، مفتی محمد تقی عثمانی) (3)
اس کی تفصیل حضرت ابو بکرہؓ کی روایت میں اس طرح آئی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آگیا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ تین تو لگاتار یعنی ذیقعدہ، ذی الحجۃ ، محرم اور چوتھا رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔(4)
1۔ان مہینوں کو اشہُر حُرُم کہنے کی وجہ:
ان مہینوں کو حرمت والا مہینہ دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا: ایک اس لیے کہ ان میں قتل وقتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے، البتہ ان میں سے پہلا حکم تو شریعتِ اسلام میں منسوخ ہوگیا، جبکہ دوسرا حکم ادب واحترام اور عبادت گزاری کا اہتمام، شریعت میں اب بھی باقی ہے۔(5)
2-ماہ ذیقعدہ حج کی تیاری کا دوسرا مہینہ ہے:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ:حج کے مہینےطے شدہ اور معلوم ہیں۔(6)
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اشہرِ حج تین ہیں، جن میں سے پہلا شوال اور دوسرا ذیقعدہ اور تیسرا ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔(7)
حضرت عمرؓ، حضرت عبد اللہؓ بن عمر، حضرت علیؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ اور حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے یہی روایت کیا گیا ہے اور یہی اکثر تابعینؒ کا قول ہے۔(8)
یہ بات ماہِ ذیقعدہ کی عظمت و فضیلت کو اور بڑھا دینے والی ہے کہ یہ حج کا درمیانی مہینہ ہے، اور آج بھی اکثر لوگ اسی مہینے سے حج کی تیاریاں کرتے ہیں اور حج کے لیے رختِ سفر باندھتے ہیں۔
♦️ 🇵🇰 *آن لائن مســـائل دارالفــلاح* ♦️
☄╚───────────╝☄
Comments
Post a Comment